فراق

جاڑے کی اداس راتوں کے آخری پہر میں

.جب کہیں کوئی اشکوں کی لڑیوں میں کسی پیارے کا  منتظر ہو

تو کسی اور جگہ کوئی اپنے مضطرب دل کی بےچینی  سے الجھتا ماضی کے جھروکوں میں جھانکے

.کہیں کوئی دم توڑتی امیدوں کو روئے

تو دور کسی وادی کے بیچ میں کوئی تنہا غموں کو  لڑے

تب، اس تمام بھگدڑ میں

تم مجھ سے سرگوشیوں اور ویران آنکھوں میں

.کیا گیا وہ وعدہ نہ بھولنا

کہ جب بھی اس شہر کا سورج غروب ہو

ان مصروف سڑکوں پر زندگیاں تیز رفتاری سے دوڑیں

.اور دور اس چھوٹے سے میدان میں بچوں کی   قلقاریاں گونجیں

تو اس کے بعد آنے والے تمام جاڑوں میں

جب تم دل و جان کے سارے بندھن توڑ کر ساتھ چھوڑ جاو گے

.ٹھیک اسی موڑ پر تم  اپنا وہ وعدہ نبھانا

کہ آگے ہر اس لمحے میں

جب  کبھی تمھارا دل ٹوٹے

اور آنکھوں کے کنارے نم ہوں

.تو تم مجھے یاد کرو گے

کہ یہ تمھارے لئے میری بےلوث محبت

اور اس کے بدلے میں میرے  لیے جلنے والی

.تمھاری نفرت اور انا کی آگ کا تم پر قرض ہوگا

Advertisements

12 thoughts on “فراق

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s